Subscribe Us

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑے دفاعی اتحاد کی بازگشت،بلوم برگ

امریکی جریدے بلوم برگ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے پہلے سے موجود دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ممکنہ سہ فریقی اتحاد سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کی شرائط نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہیں۔

اس معاہدے کے تحت:

کسی ایک ملک پر حملہ، دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترکیہ، جو پہلے ہی نیٹو کا اہم رکن ہے، اب اس علاقائی اتحاد کا حصہ بننے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ اتحاد تشکیل پاتا ہے، تو ہر ملک ایک منفرد طاقت کے ساتھ اس کا حصہ بنے گا:

ملک

فراہم کردہ صلاحیت

پاکستان

ایٹمی صلاحیت، جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت۔

سعودی عرب

وسیع مالی وسائل اور اقتصادی استحکام۔

ترکیہ

جدید دفاعی صنعت (ڈرونز و دیگر) اور وسیع جنگی تجربہ۔

رپورٹ کے مطابق، ترکیہ اپنے جدید ترین ففتھ جنریشن 'کان' (KAAN) فائٹر پروگرام میں پاکستان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کا بھی

خواہشمند ہے۔ اس سے نہ صرف تینوں ممالک کی فضائی قوت میں اضافہ ہوگا بلکہ دفاعی پیداوار میں خود انحصاری بھی آئے گی۔

Post a Comment

0 Comments