Subscribe Us

پاکستان کے سرکاری اداروں کے مالیاتی بحران میں شدت: مالی سال 2025 میں نقصانات میں 300 فیصد اضافہ

پاکستان کے سرکاری اداروں (SOEs) کی مالیاتی کارکردگی میں تشویشناک

 گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران ان اداروں کے مجموعی

 نقصانات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 300 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران خسارے میں چلنے والے

 اداروں کو مجموعی طور پر 123 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ

 مالی سال 24-2023 کے اسی عرصے میں یہ خسارہ محض 30.6 ارب روپے تھا۔

خسارے کی فہرست میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) پہلے نمبر پر ہے، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور ریلوے بھی بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

ادارہ

مالی خسارہ (ارب روپے)

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)

153 ارب

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (QESCO)

58.1 ارب

سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (SEPCO)

29.6 ارب

پاکستان ریلوے

26.5 ارب

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (PESCO)

19.7 ارب

پاکستان اسٹیل ملز

15.6 ارب

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ:

مالی سال 2025 کے پہلے چھ ماہ (پہلے نصف) میں بڑے خسارے والے اداروں نے مجموعی طور پر 343 ارب روپے کے نقصان کی اطلاع دی ہے۔

تاہم، ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں مجموعی خسارے میں 2 فیصد بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔

 اگرچہ کچھ شعبوں میں معمولی بہتری آئی ہے، لیکن NHA اور پاور سیکٹر کے اداروں کا بڑھتا ہوا خسارہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

Post a Comment

0 Comments